رنگ خا کستری اور آنکھیں لال
تھامے سرخ رنگ و جامِ سفال
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
جامِ جم سے یہ مرا جامِ سِفال اچھا ہے
ذرات سفال ہوگئے جب باہم
اور جام بنا تو پھر نہیں توڑتے ہم
یہ کہنے کے لائق بنے ہیں ، سفال آفریدی ایاغ آفریدم فطرت کا ایک حصہ تھے .
( ۱۹۸۵ ، نقدِ حرف ، ۱۰۲) .
عالم قدس سے ہے باغ نِبوت کی بہار
عرشِ اعظم ہے سفالِ گلِ ریحانِ رسولؐ
چھت ... سنگ مرمر کی شفاف تختیوں سے بنائی گئی تھی اور اس لے اوپر چاندی اور سونے کے سفال تھے ۔
( ۱۹۱۲ ، خیالات عزیز ( دیا نرائن ) ، ۲۲۷ ) .
ہوا ہے سب کی طراوت سوں یہ مکان سرسبز
ہر اک سفال پر دستا ہے رنگِ ریحانی
چاہے تو سفال کوں کرے سور
سورج کون سفال بھانت بے نور
جلوۂ رخ اس پہ تیرا ہو نہ گر برتو فگن
ایک سفالِ راہ سے ہو جائے بدتر آفتاب