نول رُکھ پہ خلقت کے اے دل توں ریج
وہی پھل ہے آخر جو اوّل ہے بیج
زلف کو مشک جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں خطا
خلقت آہو سے ہے اوس کی یہ ہے آہو سے جدا
انسان کی خلقت کے یہ انقلابات مذہباً اور حکمۃً دونوں طرح سے ثابت ہیں .
( ۱۹۳۱ ، ارتقا ، ۱۰ )
وفا اون کی خلقت ستی دور ہے
مگر بے وفائی کا یہاں پورے
دل چھین لے اک خلق کا وہ ہنستے ہی ہنستے
پر اس کو ابھی اپنی یہ خلقت نہیں معلوم
عادت ہے اس کی ظلم تو خلقت میں ہے جفا
اس کج ادا سے چین کسی کو نہیں ملا
ہدایت ہماری خلقت میں ہے .
( ۱۹۶۷ ، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، ۳ : ۱۷۶ )