کافور سے جل اٹھیں سراپا
ٹھنڈی ہوئیں تھا جنھیں جلاپا
میں بازار آئی ایسے جی کے جلاپے سے مجھ سے یہ سوخت نہیں اٹھائی جائے گی۔
(۱۹۲۱، اولاد کی شادی ، ۷۸)
حمیدہ کا تجھ کو کیا جلاپا پڑ گیا ، تو اس کی جوتی کی برابری تو کر لے۔
(۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ، ۱۰۷)
کیا میں رشک ،حسد ،جلاپے جیسے قدیم و فرسودہ عام جذبے پر فتع نہیں پا سکتی۔
(۱۹۵۴، شاید کہ بہار آئی ، ۱۵۵)