سورج سا جلاجل لے کر بات میں
لگیا زہرہ جیوں گانے اس رات میں
قرناوبوق کے پھنکنے جلا جل کے جھنجھنانے...کی صدائیں کانوں میں آتی تھیں۔
(۱۸۹۶، فلورا فلورنڈا ،۹)
طبل کی دوں دوں سے جل اٹھتے ہیں آنکھوں میں چراغ
جھنجھناتے ہیں جلا جل سنسناتے ہیں دماغ
آنکھیں سی کر جلا جل بندھ کر آٹھ دن تک بیدار رکھے ، سونے نہ دے۔
(۱۸۸۳، صید گاہ شوکتی ، ۵۹)