اس شہسوار میدان شجاعت و جلادت...کو گھیر لیا۔
(۱۸۱۲،گل مغفرت ،۱۱۲)
شجاع کی ملکہ نے اس موقع پر نہایت مردانہ جلادت سے کام لیا۔
(۱۹۳۹، مطالعۂ حافظ ، ۱۵۸)
پیدا ہونا جودت و جلادت کا فرس ابی طلحہ میں ۔
(۱۸۵۱، عجائب القصص( ترجمہ) ،۳۲۲:۲)
دونوں بھائیوں نے مع رفیقوں کے جان شیریں نثار کی ، لیکن رام نرائن کی فوج میں بھی باقی نہ رہی جلادت گفتارکی ۔
(۱۸۰۱، گلشن ہند ، ۸)