جلاد (رک) کا پیشہ یا کام ، بے دردی ، قصائی پن ، ظلم ۔
آج کیا خون بہایا کسی فریادی کا
کچھ زیادہ ہوا شہرہ تری جلادی کا
(۱۷۷۲، فغاں ، د (انتخاب) ، ۸۸)
کہاں تک آہ لکھوں اس کاحال بربادی
کہاں تک آہ کہوں آسماں کی جلادی
(۱۸۷۸ ، گلزار داغ ،۳۰۳)
رنگ آمیز ہو اب وقت ہے استادی کا
بھر دیا موت نے نقشہ تیری جلادی کا
(۱۹۱۵، وفا رامپوری ، ک ۴۳)
[ جلاد + ی ، لاحقۂ صفت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .