اس کو اللہ تعالیٰ سے دو نظریں ایک جلالی اور دوسری جمالی عنایت ہوئی ہے یعنی ان پر دوحالتیں طاری ہوتی تھیں ۔
(۱۸۶۴، تحقیقات چشتی ، ۳۶۶)
ہوچکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہور
ہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
چین ابرو نے دکھایا اولٹی سیفی کااثر
یار کا نقش جمالی بھی جلالی ہو گیا
ہنسا کے بجلی کو ابر رویا جگا کے سورج کو چاند سویا
یہ نقش ہستی ہے اعتباری کہیں جلالی کہیں جمالی
حروف مقصود با یکدیگر ہیں...اگر مقصود جمالی ہو تو عروج ماہ سے...اگر جلالی ہے تو نزول ماہ یا...یا قمر در عقرب میں شروع کرے ۔
(۱۹۵۱ ، مفتاح الجفر ، ۴۱)
اب اس مکان میں جلالی فقیر رہتے ہیں ۔
(۱۸۶۴، تحقیقات چشتی ، ۶۱۲)
جلالیوں میں سے انقرہ کے قلندر نے...اس شہر کا محاصرہ کر لیا۔
(۱۹۶۸ ، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، ۴۶۱:۳)
۴۔ (i) شمسی مہینوں کے نام جو جلال الدین ملک شاہ سلجوقی کی تاریخ تخت نشینی سے منسوب کیے جاتے ہیں ، ان کے نام اور مترادف ان٘گریزی مہینے یہ ہیں : بہمن (جنوری) ، اسفندار (فروری) ، فروردین (مارچ) ، اردی بہشت (اپریل) ، خرداد (مئی) ، تیر (جون) ، مرداد (جولائی) ، شہر یور (اگست) ، مہر (ستمبر) ، آبان (اکتوبر) ، آذر (نومبر) ، دے (دسمبر)
(فرہنگ آصفیہ ؛ نوراللغات)
چمن میں خوش رنگ گل یہاں ہے جوش خون ناسخ
جلال اپنا زیادہ کیوں نہو ماہ جلالی ہے
آپ کے باپ دادا اور پر دادا جس جلالی کام کو چھیڑ گئے تھے آپ نے بڑی خوبی سے انجام دیا ۔
(۱۹۱۷، مضامین شرر ، ۱۴۵:۳،۱)