سالن اس وقت کچھ نہیں درکار
روکھیوں سے بھی کچھ تو ہوگا ادھار
میری سرکار ! آپ کا اُگال میرا ادھار.
( ۱۸۷۵ ، انشاء ہادی النسا ، ۱۰۶ )
تہیں اونچہ انبر سریا باج ادھار
دھرت مارگ آسن دھرے ٹھار ٹھار
اے صاحبزادی اپنی خیر کچھ ٹکڑا پارچہ دلا تو اس کوپانی پینے کا ادھار ہو.
( ۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۲۱۱ )
اور وہ کہاں ہیں میرے مالک میری زندگی کے ادھار.
( ۱۹۱۶ ، بازار حسن ، ۲۹۵ )