ایک شخص مٹی میں سَنا ہوا مسجد میں جانے لگا.
(۱۸۸۶، حیاتِ سعدی ، ۱۴۶).
ذبح تو کرتے ہو کچھ دھیان بھی ہے
خُون میں ہاتھ سنَے جاتے ہیں
کیوں کسی اور کا غُصّہ وہ اُتاریں ہم پر
بیچ میں بول کے ہم مُفت میں سَن جاتے ہیں
بہت ہی شرمندہ ہوں اے بہن
مرے ساتھ تم بھی گئیں مفت سَن