عرب ہور عجم ملک لڑنے کوں زور
دور اہل جیتے راج ہیں دُزد چور
نگہ سوں تیری ڈرتے ہیں نظرباز
سدا ہے خوف دزدوں کو عسس کا
روشن دلی سے اس کی عدو تِیرہ بخت ہے
دزدِ سیاہ کار کا آفت ہے ماہتاب
کل رات کو چار دُزدِ چالاک
کیا جانے لگائے کب سے تھے تاک
کسی ریگ زار سے جیسے اپنا وصال ہوا
نہ صدائے سگ ہے ، نہ ہائے دُزد کی چاپ ہے