پس سُوے یا طرف ہوا تو یکجا بستی لازم
یکجا نیستی و خدائے تعالیٰ یکجا ہست و یکجا نیست
سُنُبل و درخت سایہ دار ہر ایک سُو اور جنگلوں میں بھی بیش تر تالاب و سبزہ ڈھڈھا .
(۱۸۰۵ ، آرائشِ محفل ، افسوس ، ۱۶۹)
چوٹیں جو تھیں جچی وہ اجل کو پسند تھیں
ہر سُو بزن بکش کی صدائیں بلند تھیں
ہر سُو ہے اک ملال کی دُنیا بسی ہوئی
رُوے خیال آہ کدھر ہو کِدھر نہ ہو