جکچ کام مقصود اچھے ہور بات
سو لکھ بھیج دیو آنے جاتے کے بات
برہ کی راہ میں جو کوئی گِرا سو پھر نہ اُوٹھا
قدم پڑا نہیں ہے یاں تو دستگیروں کا
کیا شِکایت کوئی دُشمن ہے اگر تشنۂ خُون
تھا جو خُون٘خوار سو خُون٘خوار نظر آتا ہے
جو کُچھ اُنہوں نے کِھلا دیا ، سو کھا لیا .
(۱۸۷۴، مجالس النسا ، ۱ : ۸)
گیا سب پُھول کا نوبت سو اب اس پُھول نوبت ہے
سدا رکھ آپ یارب توں اس سروِ صنوبر کوں
وہ نرگس کے دستے جوآفاق میں
نہ نِکلیں سو لا کر چُنے طاق میں
خواب ہی میں نظر آتا وہ شبِ ہجر کہیں
سومُجھے حسرتِ دیدار نے سونے نہ دیا
محشر میں کُچھ لباس نہ ہو گا کسی کے پاس
ان میں بھی بے کفن ہیں شہیدانِ حق شناس
ہم تو مِٹنے کے لیے تھے ، سو مٹے آخر کار
لیکن اِتنا تو کہیں آپ بھی کُچھ شاد ہوے
علی تھا برادر محمدؐ کوں یوں
سو مُوسیٰ پیمبر کون ہارون جوں
تُم لوگوں میں احمد نے امانت ہمیں چھوڑا
سو تُم نے تو سررشتۂ الفت ہی کو توڑا
یہاں تک تو ذِکر تھا اِنتقاد کا اب اِنتخاب کی طرف آیئے سو یہ بھی کوئی آسان کام نہیں ہے .
(۱۹۳۳ ، سیف و سبو (دیباچہ) ،۱۰)
درد عاشقاں پر سو ہوتا ہے کیوں
سوعاشق درونی میں روتا ہے کیوں
بادشاہی اپنی اُن نے چھوڑی اور تمام عُمر پیادہ نہ چلا ہوگا ، سو پیادہ چلا .
(۱۷۴۶ ؟ ، قِصّۂ مہر افروز و دلبر ، ۱۲۸)
نفی سات مستیاں کو کرتے ہیں وہ
بقا ایک مستی سو رہتے ہیں وہ
پریشانی دِل کو نیں ہے شُمار
شب و روز حیرت سو ہے کاروبار
خُدا سو خُدا ہے محبّت کا عالم کِتے سو جُدا ہے .
(۱۶۳۵، سب رس ، ۲۰)
دم تسلیم سوں باہر نِکلنا ، سو قباحت ہے
نہ دھراس دائرے سوں ایک دم باہر چرن ہرگز
وہ ایک دم میں جو چاہتا ہے ، سو کرتا ہے .
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۴)
کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے
قیامت شامتِ اعمال لائی
مانی مُبتلا کا دِل ، کس لئے شعلہ زا ہے اب
ایک امید تھی سو وہ ، ہہلے ہی جل کے رہ گئی
اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ ہو چکا سو ہو چکا .
(۱۹۸۲، آتشِ چنار ، ۴۸۳)