دُوبے قابِ زرّیں سو غرقاب میں
گئی حور زن٘گی کیرے خواب میں
نِکل گھر تے آتے براں وو ندیم
دیکھا باٹ میں ایک زن٘گی لئیم
ثوابت یوں فلک پر تھے سراسر
عرق کے قطرے جوں زنگی کے مُنہ پر
(۱۷۸۰ ، سودا ، ک ، ۲ : ۷۰).
سودا گر بچّے نے ایک زنگی غلام کو اُن کے ساتھ کر دیا.
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۲۴).
جس دن میری برات تھی اُس روز ایک زن٘گی ... رات کو مع دس بیس قزّاقوں کے آکر کُودا.
(۱۸۸۲ ، طلسمِ ہوش رُبا ، ۱ : ۸۷).
یہ عام تقاضائے اِنسانی ہے اس میں مومن و کافر عقلمند و بیوقوف اور زن٘گی و فرن٘غی کی کوئی تخصیص نہیں .
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبی ، ۳ : ۹۷).
اس کے بعد ملیشیائی نسل کی آمد کا سِلسلہ شروع ہوا جس میں کاکیشائی ، منگولی اور زن٘گی نسلوں کی آمیزش تھی.
(۱۹۶۷ ، اُردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ ، ۳ : ۳۷۴).