آدمی درکار نئیں سرکار میں حیواں ڈھونڈ
کون پوچھے یاں سپاہی کے تئیں گھوڑا نہیں
کہنے لگی بہنا اس کو کہاں ڈھونڈوں اور کس تدبیر سے لاؤں.
(۱۸۰۳ ، گلِ بکاؤلی ، ۵۹)
اب نہ وہ اُلفت تمھاری ہے نہ اُلفت کی نگاہ
جس کو آنکھیں ڈھونڈھتی ہیں وہ نظر ملتی نہیں
ایک جگہ ٹھٹکا اور ... وہ سطریں ڈھونڈنے لگا جو مجھے طالب علمی کے زمانے سے کچھ کچھ یاد تھیں.
(۱۹۸۶ ، دریا کے سنگ ، ۱۵۱)