اے صبا توں قول لیا تب ہووے گا دل کوں قرار
حق پرستی منج رقیباں نا بوجھیں ا ب زور تھے
اگر دانا ہے تو من کا تُجھے دانا کفایت ہے
وگرنہ بے اثر ہے شیخ تیری زور کی تسبیح
تِیرہ زُو مضحک سراپا زور ہے
دُم اگر ہووے تو پھر لنگور ہے
عابدوں کی جَو فروشی اور گندم نُمائی دیکھتے ہیں تو ان کو ساری دنیا مکر و زور سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہے.
(۱۸۷۹ ، مقالاتِ حالی ، ۱ : ۸۵).
اسکی فتوحات ... زور کے ذریعے سے ہات آتی ہیں اسلئے وہ بھی حرام سے کم نہیں.
(۱۹۱۴ ، شبلی ، حیاتِ حافظ ، ۲۹).
حُکمِ ترک ریا سے ظاہر ہے
مسائلِ مکر و زور نیّتِ شیخ