مکّی سورتیں میں زیادہ تر زور ... قیامت کے اعتقاد اور رسولؐ کی صداقت پر صرف ہوا ہے .
(۱۹۱۴ ، سیرۃالنبیؐ ، ۲ : ۱۰۱) .
۰۲ اثر ، تاثیر .
کیوں حضور میرے عمل کا زور دیکھا .
(۱۷۴۶ ؟ ، قصّۂ مہر افروز و دلبر ، ۱۶) .
میں ان کے دلائل کا زور تسلیم کرتا ہوں .
(۱۹۳۸ ، خطباتِ قائدِ اعظم ، ۱۵۱) .
۳. بل ، بُنیاد ، سبب ، بنا .
علم کے زور سے دو ولایتوں پر بادشاہت کر رہی ہیں .
(۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ َ: ۴۶) .
مولانا کی ہستی اس وقت ایک راز ایک معمہ تھی جمعیت العلما کا زور تھا .
(۱۹۴۵ ، حکیم الامت ، ۷) .
۴. حرکت یا عمل کی تُندی و قّوت یا اس کا دباؤ ، ریلا ، طاقت .
رکھی ہے ہم نے بازی زور سے شمشیر کے ، دشمن
کیا چاہے تھا سر ، واسوخت ہو مجھ نقش سے دہلا
(۱۷۲۴ ، دیوان زادۂ حاتم ، ۱۱) .
وہ اس وقت زور میں چلے جاتے تھے .
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۲ : ۳۴۵) .
شاہ درگاہی صاحب کے زور کو انھوں نے سن٘بھالا .
(۱۹۲۹ ، تذکرۂ کاملانِ رامپور ، ۴) .
بیروتی قوّت کا مقابلہ کرنے کے لیے جسم کے اندر جو قوّت عود کرتی ہے اسے زور کہتے ہیں .
(۱۹۶۷ ، آواز ، ۳۰) .
۰۵ قوّت کا مظاہرہ ، طاقت آزمائی .
وہ بوجھ عشق کا ہے کہ ہرگز نہ اُٹھ سکے
عالم کے پہلواں ہوں اگر بہرِ زور جمع
(۱۸۵۴ ، ریاضِ مصنف ، ۲۰۰) .
ایک پیسہ میں یہ گنگا پار ہے
ورنہ دس کا زور بھی بیکار ہے
(۱۹۳۰ ، اُردو گلستان ، ۱۲۶) .
۶. حملہ ، پیش قدمی .
حق بھائی کی اُلفت کا ادا کرتا تھا بھائی
ہر زور پہ بھائی کی ثنا کرتا تھا بھائی
(۱۸۷۴ ، انیس ، مراثی ، ۱ : ۱۶۲) .
۷. زبردستی ، جبر .
کسی پاس تے زور سوں کوئی لیتا ہے دین ہمارا ہے سو آ پیچ دیتا ہے .
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۷۱) .
کل آئے تھے بڑی شیخی سے میخانے کو لُٹوانے
ولے رندوں نے مِل محتسب کو زور ہی کُوٹا
(۱۷۹۸ ، میر ، سوز ، د ، ۵۵) .
جو مانگے مِنَّت و زاری سے دے تو سائل کو
نہیں تو تُجھ سے زبردست زور سے لے گا
(۱۸۰۱ ، باغِ اُردو ، ۸۹) .
یہ ہماری خوشی تمہارا ہم پر کُچھ زور نہیں .
(۱۹۰۷ ، اجتہاد ، ۶۲) .
الغرض ثابت یہ امر اس کو ہوا
زور سے شیلا کو نعمت لے گیا
(۱۹۳۶ ، جگ بیتی ، ۱۸) .
۸. ظُلم ، زیادتی .
بس تو یہ چاہتا ہے کہ ملک میں (زور و) ظلم کرتا پھرے .
(۱۸۹۵ ، ترجمۂ قرآن مجید ، نذیر احمد ، ۵۶۵)
۹. وزن ، بوجھ .
یا نبیؐ اب آسرا ہے آپ ہی کی ذات کا
کہہ دیا دُنیا نے مُجھ سے میں سراپا زور ہوں
(۱۹۱۹ ، دُرِ شہوار ، بیخود ، ۴۶) .
۱۰. قابو ، اختیار ، بس ، قدرت ، سکت .
زور کہے تن مستی ہے عشق قوّت پکڑیا تو من مستی ہے خُدا کُچھ دیا دھن مستی ہے .
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۳۲) .
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
(۱۸۶۹ ، غالب ، د ، ۲۴۶) .
تقدیر میں تو کسی کا زور نہیں .
(۱۹۰۸ ، صبحِ زندگی ، ۱۰۵) .
فکرِ پلاؤ ہے جنوں نانِ جوین کی خیر مانگ
یہ بھی نہو تو زور کیا بس جو مِلے وہ کھائے جا
(۱۹۴۲ ، سنگ و خشت ، ۷) .
ان کا قوّتِ ارادی پر اتنا زور تھا کہ وہ جب کبھی جس چیز کے لئے سوچتے پورا کرکے ہی دم لیتے .
(۱۹۸۸ ، جنگ ، کراچی ، ۱۵ ، جولائی ، ۱۲) .
۱۱. قوّت و اثر .
مولوی شبلی صاحب کو زور کا تار دیں .
(۱۹۰۱ ، تاریخِ نثرِ اُردو ، ۵۶۳) .
۱۲. کوشش ، سحی ، جدوجہد .
پولیٹکل نظمیں بھی ایک صاحب چھاپ رہے ہیں یہ پڑھاپے کا زور ہے .
(۱۹۱۴ ، مکاتیب شبلی ، ۱ : ۱۱۰) .
۱۳. (شطرنج) وہ سہارا جو ایک مہرے یا پیادے کو دوسرے مہرے یا پیادے سے ہوتا ہے .
(نوراللغات) .
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .