دس روز تک لڑکا برابر سال میں گیا.
( ۱۸۶۸ ، رسومِ ہند ، ۱۳۷)
دِلّی میں یہ دستور تھا کہ جب سے بچہ مکتب یا سال میں گیا اُستاد نے پہلے ہی دن سے کہا دیکھو پاؤں نہ پھیلاؤ.
( ۱۹۲۳ ، اہل محلہ اور نا اہل پڑوس ، ۱ )
اسمائے ظرف اسم کے بعد ان علامات کے لگانے سے بنتے ہیں سال سے ٹکسال ، گھڑسال.
( ۱۹۱۴ ، اُردو قواعد ، مولوی عبدالحق ، ۱۸۰ )
سال ، ظرفیت ، بھنڈ سال ، کھنڈ سال ، ٹکسال .
( ۱۹۲۱، اُردو قواعد ، مولوی عبدالحق ، ۱۸۰)
سال ، ظرفیت ، بھنڈ سال، کھنڈ سال ، ٹکسال.
(۱۹۲۱، وضع اصطلاحات ، ۹۸)
مویشی خانہ میں دو بڑے اصطبل چودھری کی ذاتی گھوڑیوں کے تھے اور بقیہ چورخی سالیں چارہ کے گودام اور نوکروں کی کوٹھریاں تھیں.
( ۱۹۶۳ ، اُردو نامہ ، کراچی ، اپریل : ۸ )
سیم تن جب عمر سے اوترا نہیں رہتا ہے حال
کم کوئی بازار میں لے ہے روپیہ غیر سال