قبولیا حق قبول اس جی پچھانیا
ابا ابلیس نے کیتا سو دانیا
مری بیعت سے گر ان کو ابا ہے
کرو تفتیش ارادہ ان کا کیا ہے
دشمنی اس آدم خاکی سے کفر محض تھی
کی جو سجدے سے ابا ابلیس مرتد ہوگیا
راجا سورت نے . . . مال مقرری کے ادا کرنے سے ابا کیا .
( ۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۴ : ۱۸۵ )
تجھ پہ نثار جی کریں ، شوق کی پیروی کریں
تو جو کہے وہی کریں ، ہم کو ابا سے کیا غرض
ناصح ہزار طرح کہے ، مجھ کو عشق سے
اِبرا نہیں ، اِبا نہیں ، ہرگز نہیں نہیں
مسلمانوں کی حالت موجودہ ، تعلیم زہد سے ویسا ہی ابا رکھتی ہے جیسا کہ ایک بیمار ناتواں کی تنقیہ سے .
( ۱۸۸۸ ، لکچر ، نذیر ، ۱ : ۱۱۰ )
مجھ کو . . . دوستوں کے ساتھ مناظرے سے ابا رہا ہے .
( ۱۹۴۵ ، حکیم الامت ، ۳۱ )
اف : رکھنا ، کرنا ، ہونا .
-