اللہ کے یہاں سے نہ ملے گا تم کو بچاؤ اس دن اور نہ ملے گا الوپ ہوجانا .
(۱۷۹۰ ، ترجمۂ قرآن (شاہ عبدالقادر) ، ۴۶۹)
اس بیراگی کا اس وقت تک کہیں نشان نہ ملا ایشر جانے کہاں الوپ ہوگیا .
(۱۸۹۱ ، بوستان خیال ، ۸ : ۱۹۹)
لیکن دیوی کا دھڑ کہیں نظر نہ آیا دیوی الوپ ہوگئی تھی .
(۱۹۶۸ ، شکست ، ۱۱۱)