نماز کرنا میرا طریقت، روزہ رکھنا میرا حقیقت، مالِ زکواۃ دینا معرفت.
(۱۴۲۱، بندہ نواز، معراج العاشقین، ۳۳)
کرے حج کعبہ کا دیوے زکواۃ
مُسلمان ہے جو کرے یہ صفات
مُسلمانی کے کتنے فرض ہیں ... چوتھا فرض مال ہو تو زکواۃ دینا.
(۱۸۵۵، تعلیم الصبیان، ۲۰)
اسلام کے پانچ رکن ہیں. کلمۂ توحید، نماز، روزہ، حج، زکواۃ.
(۱۹۱۶، معلمہ، ۱۸)
زکواۃ و خمس وغیرہ تقسیم کے لیے بادشاہ و امرا سب آپ ہی کے پاس بھیجا کرتے.
(۱۹۲۶، حیاتِ فریاد، ۱۴۰)
اللہ کی خوشنودی کے لئے بغیر کسی دنیاوی فائدے کے کسی پریشان حال یا مُفلس مُسلمان کو مال کا مالک کر دینے کو زکواۃ کہتے ہیں، ویسے زکواۃ کے معنی ہیں زیادہ ہونا، بڑھنا.
(۱۹۸۵، روشنی، ۱۴۴)
دے ڈالو تُم بھی خمسِ سُخن جلد اے نسیم
ہر مالدار پر ہے زکواۃِ خزانہ فرض
جانتے بھی ہو پسینہ کیا چیز ہے یہ تمہارے بدن کی زکواۃ ہے.
(۱۹۰۳، انتخابِ توحید، ۷۷)
بیماری بھی تندرستی کی زکواۃ ہوتی ہے تم اس زکواۃ سے بھی سبکدوش ہو جاؤ گے.
(۱۹۴۷، حرف آشنا، ۱۵۲)
جس وقت مال کی زکواۃ دے کر اسباب کشتی پر چڑھایا اور لنگر اُٹھایا ناؤ چلی.
(۱۸۰۲، باغ و بہار، ۱۴۱)
کبھی افسوں و عزیمت کبھی تعویذ و طلسم
کبھی تجویزِ زکواۃ اور کبھی قصدِ دعوت
ایک حُجرہ میں گڑھا کھود کر اسمِ جلالیہ کی زکواۃ جس کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ بیس ہزار ہے ایک سال میں پوری کی.
(۱۹۲۹، تذکرۂ کاملانِ رام پور، ۲۹۷)