۱. (بُنائی) تھان کے شروع اور آخر کا ہر سرا (جو) بُنائی شروع اور ختم ہونے کی حد کو ظاہر کرتا ہے
(ا پ و، ۶۴:۲).
۲. ساری کا ایک سِرا.
دونو سرے پیچھے ہی لٹکے ہوئے تھے کان کے پاس کُچھ سرگاہ کے آنچل کی جھوک تھی.
(۱۹۲۸، پسِ پردہ ، ۲۲).
۳. سرہانا.
تقریباً بیس منٹ میں میں نے کھٹمل دانی کو سرگاہ کی طرف سے اِتنا کاٹ دیا کہ میرا جسم اندر چلا گیا.
(۱۹۴۷، ہم اور تم ، ۴۶).
[ ف : سر + گاہ (رک) ].
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .