اس كے بعد جب برہمنوں كو راجاؤں كے دربار میں اُن كی مدح كے قصائد گانا پڑے تو ان كے مناسب رعب داب اور سطوت و شوكت كے راگ ایجاد ہوئے جیسے مالكوس ، درباری شاہانہ (اڈانہ) وغیرہ.
(۱۹۲۶ ، شرر ، مشرقی تمدن كا آخری نمونہ ، ۲۷۴).
اسلامی كلچر كے مصنف نے امیر كے ایجاد كردہ راگوں میں ضلع ۔ ۔ ۔ نگار، شاہانہ، بسیط، خیال، دھرپد اور قوالی كی طرزوں كا بھی اضافہ كیا ہے۔
(۱۹۶۰ ، حیات امیر خسرو ، ۱۷۰).