سارے حرم میں ایک سو باون قبّے ہیں جن کی صورت گولائی میں اُلٹی کڑاہی کی سی ہے.
(۱۹۰۶، الحقوق والفرائض ، ۲۰۱:۱).
رَو (Current) کی جانب جو جوڑ ہوں اُن کے ” گولائی “ یا ” سیون “ دے کر بنایا جاتا ہے.
(۱۹۱۷، رسالہ تعمیرِ عمارت ، ۶۶).
نصف دائرہ ... اور اگر اچھی طرح گولائی تعمیر ہو جائے تو کارآمد ہانڈی ہے.
(۱۹۹۲، نگار، کراچی، جون، ۳۳).