اُسکا حسن جو ہے سوگندھک ہے .
(۱۷۴۶ ، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۱۳۴) .
اوس پہاڑ کی مٹی کھود کے رکھ دیتے ہیں اور جب بادِ سموم چلتی ہے وہ سب مٹی گندھک ہو جاتی ہے .
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب ، ۲۲۴) .
گندھک سرخ ، زرد ، کبودی اور سفید چار طرح کی ہوتی ہے .
(۱۹۳۸ ، آئین اکبری ، ۱ ، ۱ : ۶۴) .
گندھک ، بیرونی طور پر خارش میں بطور مرہم استعمال کی جاتی ہے .
(۱۹۸۰ ، جانوروں کے متعدی امراض ، ۲۳۶) .