ہم تمہارا امتحان کا ہے میں لیں گے تھوڑا ڈر، تھوڑی بھوک ، تھوڑا گھاٹا.
(۱۸۹۱، ایامیٰ، ۸۶).
گھاٹے میں نہیں نفع ہی میں رہے گا.
(۱۹۴۵، حکیم الامت، ۳۲).
تم کو کیا گھاٹا دل والو!
تم جو سچے ہو ، گُن والے ہو!
علم کی دولت نے تھا ہم کو کِیا بالا نشیں
جاہلوں کا تھا ہماری قوم میں گھاٹا یو نہیں
جس قدر قوم میں بھیک مانگنے والوں کی کثرت زیادہ ہوتی جاتی ہے اسی قدر قوم کی دولت میں ... ہمت و اُولوالعزمی میں گھاٹا ہوتا جاتا ہے.
(۱۹۰۶، مقالات حالی، ۱ : ۲۹۱).