یہ گھاٹا جس قدر دشوار تھا اسی قدر شاداب اور فرحت انگیز بھی تھا.
(۱۹۳۷، واقعات اظفری، ۶۵).
نواب ... جب ندی کے گھاٹے میں آئے ، یہاں احمد خاں رسالدار اور ماما ابراہیم خاں باجمعیت شایستہ ندی کا گھاٹا باندھے ہوئے ، مورچہ سنبھالے ہوئے بیٹھے تھے.
(۱۸۷۴، نتائج المعانی، ۱۳۷).