سوال: یہ طاقت مج میں نہیں جے کچھ ماضی و حال و مستقبل سب اس تھے وہی جانے۔
(۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق، ۷۳)
ماضی ،مستقبل، حال، ایک کا ایک پوچھے احوال۔
(۱۶۳۵، سب رس، ۱۸۵)
کیا ترے کشف بیاں کرنے کی کہیے تاثیر
طبع گویندہ پہ یاں حال ہوا مستقبل
جوش کے افکار کو مانے گی مستقبل کی روح
آج اگر یہ رسوا مردِ نامسلماں ہے تو کیا؟
میں نے پنڈت جی سے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے شروع کر دیئے ۔
(۱۹۸۹ ، قصے تیرے فسانے میرے ، ۹۸)
زمانے کی تین قسمیں ہیں ، ماضی جو گذر گیا، حال موجود ہے، مستقبل آئے گا۔
(۱۸۸۹ ، جامع القواعد ، محمد حسین آزاد ، ۱۸)
پہلے اتنا پیسہ اور وقت صرف کرو اور بعد میں کوئی مستقبل نہیں ۔
(۱۹۸۶ ، چوراہا ، ۱۰۹)