تیرے دَسن ہور لعل کے اوصاف ہوئے جب باغ میں
لالہ دوکھوں رویا رَکت بکسیاہیا آنار کا
تج گال پھل اے اپر لٹ ہے سو گل لالے اپر
یا ہے بھنور لالے اپر سو نقش مج من کائیا
برنگِ لالہ نکلِے جام لے کر اس زمین سے جم
اگر بخشے تکلم سوں مئے جاں بخش جام اُس کا
اس باغ کے کی قطعہ بندی علیحدی علیحدی پھولوں کی ہے ، کسی میں کِسیر ہے ، کسی میں لالا ہے.
(۱۷۴۶ ، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۱۹).
چھتوں پر لالہ بوتے ہیں چنانچہ بہار کے دونوں میں ہر شخص کا بام خانۂ اشک گل زار و بہتر از لالہ زار ہو جاتا ہے.
(۱۸۰۵ ، آرائش محفل ، افسوس ، ۲۲۱).
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں
ردائے لالہ و گل پردۂ مہ و انجم
جہاں جہاں وہ چھپے ہیں عجیب عالم ہے
نہ دماغِ لالہ و گُل ہمیں ، نہ خیالِ دیر و حرم ہمیں
تری چشم لُطف کی خیر ہو غمِ دوجہاں سے گُزر گئے
میں نے جھپ جھپ تخت پر ایک سوزنی بچھا دی لالہ روشن کر کے رکھ دیا.
(۱۸۸۱ ، صورت الخیال ، ۱ : ۱۶۱).
جابجا فرش بچھے ہیں ، لالے جل رہے ہیں.
(۱۸۹۲ ، طلسم ہوشربا ، ۶ : ۳۷).
ہر طرف جھاڑ فانوس لالہ مردنگ اور کنول روشن تھے.
(۱۹۴۱ ، جزیرۂ سخنوراں ، ۹۴).