کنیزیان جتیاں رقص کیتیاں وہاں
ریاحیں پر سنبل بی دیتیاں وہاں
اس دو کوں ہے دو کنیز کونین
اس دو کوں ہے دو غلام دارین
کنیز اور اصیلوں کو آواز دے
اوٹھی بی بی منجھلی وہاں بانس لے
با وصف اس زہد و و ریاضت کے طاقت بشری ایسی تھی کہ سات سو کنیز اور تین سو منکوحہ سے ہم بستر رہتے تھے.
( ۱۸۴۵ ، احوال الانبیا ، ۱ : ۱۰۶ )
جناب امیر نے ان کی طرف سے یہ حال عرض کیا اور درخواست کی کہ فلاں غزوہ میں جو کنیزیں آئیں ہیں ان میں سے ایک کنیز مل جائے.
( ۱۹۱۴ ، سیرۃ النبیؐ ، ۲ : ۳۱۱ )
سلطان چاہتا تو اس کو روز اول سے ہی کنیز بنا کر ڈال لیتا.
( ۱۹۳۹ ، افسانۂ پدمنی ، ۱۴۱ )
یہ حقیر تحفہ . . . آپ قبول فرما لیجیے تو آپ کی ذرہ نوازی ہے ، آپ کی کنیز ، قیصر.
( ۱۹۳۶ ، گرداب حیات ، ۷۵ )