جوں خاور نے اس سات باتاں کیا
کنیزک کیاں بھو دھات باتاں کیا
شاہ بندر کے خوف سے کہ مبادہ چھین لے ، سب کنیز کوں کو صندوق میں بند کیا.
( ۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۶۵ )
کسی ملک میں ایک ملک التجار . . . تھا مال و دولت غلام و کنیزک ، بکثرت.
( ۱۹۰۱ ، الف الیلہ ، سرشار ، ۲۵ )
رنگین مولا کے رنگ بھی عجب ہیں کہاں سردار کی لڑکی سے کنیزک کیا اور کہاں اب کنیزک سے کشور عالم کی ملکہ بنا کر بٹھا دیا.
( ۱۹۲۴ ، محمدؐ کی سرکار میں ایک سکھ کا نذرانہ ، ۸۵ )