مچھلی نے حلق کے کوے کو زور سے پکڑ لیا تھا.
( ۱۸۹۲ ، میڈیکل جیورس پروڈنس ، ۱۶۶ )
میں نے جناب نبی . . . کو پورا خندہ کرتے کبھی نہیں دیکھا ، حتیٰ کہ میں آپ کے کوّے کو دیکھ پاؤں ، ہاں آپ مسکراتے . . . تھے.
( ۱۹۰۶ ، الحقوق والفرائض ، ۳ : ۲۱۰ )
عام طور پر کسی کے کوّے کو چھوا جائے تو ابکائیاں آنے لگتی ہیں.
( ۱۹۶۸ ، ہمدرد صحت ڈائجسٹ ، ۳۶ ، ۵ : ۱۵۴ )
ان سب آوازوں کا مخرج لبات ہے جسے اردو میں کوّا کہتے ہیں یہ زبان کی جڑ کے مقابل ، اوپر کے تالو میں لٹکا ہوا گوشت کا ٹکرا ہے.
( ۱۹۸۸ ، اردو نامہ ، لاہور ، اپریل ، ۸ )