پھراتا سو آپ حکم میں دل تُمہیں
حقیقت میں فعّال و فاعل تُمہیں
یہی صانع یہی فعّال خلقِ جزو و کُل اس سے
یہی موجد ، یہی مبدع ، یہی خود آپ جاعل ہے
ہو تری عقل سے عاجز دمِ بحثِ معقول
اک مقولے میں فقط فعل کی فقلِ فعّال
جس ممتاز و ۂخلص اور فعّال شخصیت کی ضرورت تھی وہ ایسوسی ایشن کو میّسر آئی .
( ۱۹۵۶ ، آشفتہ بیانی میری ، ۱۴۰ )
غالب انسٹی ٹیوٹ کو فعال رکھنے میں ان کو کوششوں کو بڑا دخل ہے.
( ۱۹۸۳ ، دید و باز دیدۂ ، ۶۳ )
نسخہ جات لکھنے میں مندرجہ ذیل نکات ملحوظ رکھنے چاہئیں ... بہتر یہ ہے کہ فعّال اجزاء کے نام سب سے پہلے لکھنے جائیں اور ازاں بعد مصلح وغیرہ کے نام.
( ۱۹۴۸ ، علم الادویہ (ترجمہ) ، ۱ : ۱۲۶ )
واقعہ یہ ہے کہ خود اور غیر خود کے درمیان ایک صالح ، موثّر اور فعال رشتے کا ہونا ضروری ہے.
( ۱۹۸۶ ، مطالعۂ اقبال کے چند پہلو ، ۲۳ )