تھوڑا ہی اپنے منھ سے قبولے گا آب وہ
اب دیر کیا ہے وصل کا پیغام کیجئے
کوڑے بازی شروع ہوئی جب خوب کھال ادھڑی تو قبول دیئے کہ ہاں ... یہ موجود بھی ہیں.
(۱۸۹۱ ، قصۂ حاجی بابا اصفہانی ، ۴۵).
آج یہ میرے سامنے قبول کہ تم پر حد سے زیادہ فریفتہ ہو رہے ہیں.
(۱۹۱۱ ، غیب داں دلہن ، ۲۴).
قبولے نہیں ان تھے کوئی یو سخن
اَوَّل کی وہی عقل کیتے زبن
میں قبولنا چاہتی ہوں کہ جب وہ دونوں روانہ ہوئے تو میں ان کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنے لگی تھی کہ ان کو نظر نہ آؤں.
(۱۹۷۳ ، رنگ روتے ہیں ، ۵۶).
اگر یہ چاند اس اسماں کا کہیں جگ تو قبولوں کیوں
سماں کے چاند کے مکھ میں کون دیکھیا جو تارے ہیں
دس ہزار اشرفی نقد مہر قبولے.
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۸۲).
قبولو تم اسے میرا ہے دل سوز
ہدایت کے محل کا شمع افروز
میں کئی جگہ کام کی تلاش میں گیا مگر کسی نے نہ قبولا.
(۱۹۷۲ ، جہانِ دانش ، ۲۲۷).