نیزے کے بند کھول دیے شہسوار نے
اس پر بھی سرفراز کیا بدشعار نے
توحید کے عقیدے نے ان کا سر اونچا اور گردن فراز کر دی تھی .
(۱۹۵۳ ، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ، ۱۲۵)
اتال تجھ زمانہ فراز آیا ہے
جو بھی جھگڑے کا تجھ نیاز آیا ہے
پادری صاحب تو غلام گردش میں دراز ہوے اور دستِ غارتگری فراز .
(۱۹۱۱ ، ظہیر دہلوی ، داستانِ غدر ، ۸۷)
غمِ ماسوا سے نجات دے مجھ اپنے غم کی برات دے
درِ غیر مجھ پہ فراز ہو فقط ایک در ترا باز ہو