فروعِ رخ کے مضامیں کنارِ فکر میں ہیں
فرازِ چرخ سے آغوش میں اُوتارا چاند
میں بھی فراز سے اوتر کر اوسی جمِ غفیر میں آ ملا .
(۱۹۱۵ ، پیاری دنیا ، ۵)
یہ کس نے قامت و گیسو کی بات اٹھا دی ہے
فرازِ دار و رسن نے مجھے صدا دی ہے
قدرتِ حق سے چیونٹا دو تار
شکلِ نٹ لی چڑھا فرازِ منار
فرازِ کوہ سے پھوتے ہیں نو بنو چشمے
پھریں گے اب بھی نہ کیا چشمِ اشکبار کے دن
تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ ... سب سے بڑا فراز ... وولٹ کے پوٹنشل پر ہوتا ہے .
(۱۹۷۰ ، جدید طبیعیات ، ۱۹)