طاقت وہ شے ہے جو کسی جسم کی حالتِ متحرک یا حالتِ سکون کو بدل سکتی ہے .
(۱۹۱۸ ، تحفۂ سائنس ، ۲۹۵)
کسی عامل کی طاقت کا اندازہ اس کے کام کرنے کی شرح سے کیا جا سکتا ہے.
(۱۹۸۴ ، مبادیاتِ طبیعیات ، ۱۰۴)
۲. مجال ، تاب ، جرأت.
کہاں طاقت ہے ہر اک کوں کہ دیکھے تجھ طرف ظالم
ترے ابرو کی یہ شمشیر ، رستم دیکھ ٹل جاوے
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۲۰۳)
میرِ مجلس کی تاب و طاقت کیا
کرے تکلیفِ شعر اون کے تئیں
(۱۷۸۰ ، سودا ، ک ، ۱ : ۳۱۱)
واجب ہے اطاعت مجھے یا سیّدِ ابرار
طاقت ہے میں اس امر میں کر سکتی ہوں تکرار
(۱۸۷۴ ، انیس ، مراثی ، ۲ : ۲۵۸)
جس دل میں یہ طاقت ہو اس کی صلاحیتوں کی حد نہیں ہوتی.
(۱۹۸۴ ، مقاصد و مسائلِ پاکستان ، ۱۷۲)
۲. کسی کام کو کرنے کی قدرت ، برداشت ، قوّت.
طاقت نہیں دوری کی اب توں بیگ آ مل رے پیا
تُج بِن منجے جیونا بہوب ہوتا ہے مشکل رے پیا
(۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۸۴)
طاقت نہیں کسی کوں کہ یک حرف سُن سکے
احوال گر کہوں میں دلِ بے قرار کا
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۱۷)
نان تمہارا بیمار ہے اور بدلہ دینے مے لاچار ، طاقت تازیانے کی نہیں رکھتا .
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۶۳)
۴. قابلیت ، صلاحیت ، لیاقت ، استعداد.
ظہیر ایک کافر پہ مائل ہوئے
بس اب طاقتِ دین داری نہیں
(۱۸۹۹ ، دیوانِ ظہیر ، ا : ۱۲۳)
ہر ایک فرد عقل ، طاقت وجاہت بلکہ شعور تک میں برابر نہیں ہوتا.
(۱۹۸۴ ، مقاصد و مسائل پاکستان ، ۱۲۴)
۵. بساط ، حیثیت ، ظرف.
یہاں طاقتِ نطق پاتا نہیں
کہ کورے میں دریا سماتا نہیں
(۱۸۷۲ ، محامدِ خاتم النبینؐ ، ۲)
۶. کرشمہ ، اعجاز ، کرامات .
اس کا حق پہچانناں اور موافق طاقت کے بدلہ دینا ضرور ہے.
(۱۷۴۶ ؟ ، قصۂ مہرافروز و دلبر ، ۲۴۳).
شرابِ ناب کو دیکھا ہے شہد و شیر بن جاتے
نہاں ہیں طاقتیں کیا کیا ہر اک اللہ والے میں
(۱۹۳۲ ، ریاضِ رضوان ، ۱۷۷)
۷. موثر ہونا ، تاثیر ، اثر کرنے کی قدرت یا صلاحیت.
کسی کے دلائل میں تسلسل اور گفتگو میں طاقت اور جوش پایا جاتا تھا.
(۱۸۹۵ ، فزیالوجی ، ۱)
میں نے لکھا تھا کہ دوائی کی طاقت ذرا زیادہ کر دی جائے تو شاید فائدہ ہو.
(۱۹۳۴ ، مکاتیبِ اقبال ، ۲ : ۳۱۰)
۸. (i) اقتدار ، حکومت ، اختیار ؛ حریف ، فریق.
مسلم لیگ جب کسی جماعت گورنمنٹ یا کسی طاقت سے سمجھوتا کرے گی تو اس مسئلے کو سب سے پہلے پیش نظر رکھتے ہوئے سمجھوتا کیا جائے گا.
(۱۹۳۹ ، پیسہ اخبار ، لاہور ، ۲۴ اگست ، ۱۷)
ملکی قانون کا دارومدار طاقت پر ہے اخلاقیات پر نہیں.
(۱۹۸۴ ، مقاصد و مسائلِ پاکستان ، ۱۴۱)
(ii) (دشمن سے) مقابلے کا سامان ، اسلحہ اور فوج.
جتنے آدمی پہلے میرے ہمراہ تھے اتنے ہی اور دو تاکہ اگر وہ مجھ سے لڑنا چاہیں تو میرے پاس کافی طاقت موجود ہو.
(۱۹۶۵ ، خلافتِ بنوایہ ، ۱ : ۴۰)
[ ع ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .