ہر جگہ زمین کی ایسی صورت ہے کہ گویا نہایت عمدہ کھاد ملی ہوئی ہے.
(۱۸۶۹ ، مسافرانِ لندن ، ۱۰۹)
عمدہ زراعتی پیداوار کے لیے کھاد کا استعمال ضروری ہوتا ہے.
(۱۹۸۴ ، جدید عالمی معاشی جغرافیہ ، ۱۶۶)
تین بھانت کا خرچ اسامیروں کو ہوتا ہے ، ایک کھانے و تیّاری ہل و خرید لوہا وغیرہ کا ، اس کو کھاد کہتے ہیں ... ان تینوں پھانٹ کا خرچ بیوہرہ سے لیتے ہیں.
(۱۸۴۶ ، کھیت کرم ، ۱۶)