کھادی کے اُپر نہ صاف سیلا
یوں دوست ہوا یو دل ہٹیلا
خاک پر ڈال دیا اُس تنِ عریاں کے تئیں
نہ کفن کے لیے دی اُس کو گزی نے کھادی
خود کو مفتی اعظم فلسطین کا بڑا بھائی تصوّر کرتا ہے ، گھر کی عورتوں تک کو کھدّر اور کھادی میں دیکھنا چاہتا ہے.
(۱۹۴۰ ، مضامینِ رموزی ، ۳۷)
انھوں نے ایک پریس کارڈ مجھے دیا اور کھادی کے کُرتے پر اپنے اخبار کا تعارفی فیتہ چسپاں کرکے ہدایت کی کہ اب دو ہفتے تم روز ان جلسوں میں شرکت کرو.
(۱۹۸۴ ، گردِ راہ ، ۶۰)