جوں فیروزہ کے کھن تھے یاقوت ناب
اُپر آیا فیروزیِ آفتاب
فرش اس کا سنگِ مر مر کا اینٹیں اُس میں فیروزے کی ہیں.
(۱۸۰۱ ، باغ ، اُردو ، ۲۱۵).
نو عروسانِ چمن کو ہے جواہر کا جو شوق
بیچنے فیروزہ آیا ہے چمن میں آسماں
دُور سے بادل نظر آتے ہیں سونے کے پہاڑ
قصرِ فیروزہ میں آویزاں ہیں یا کُندن کے جھاڑ
پنکی چاند ، اس شلوار کے سوٹ کے ساتھ فیروزے کا سیٹ پہنو نا.
(۱۹۸۷ ، روز کا قصّہ ، ۱۲۱).