اگر احیاناً خلاف تیری مرضی کا ہوا مَیں تو تیرے سامنے آکر پشیمان اپنے کئے پر ہوئے.
(۱۷۷۲ ، شاہ میر ، انتباہ الطالبین ،۵۴)
احیاناً ہم نے تین ماشے سمجھ کر آدھ آنے کا اسٹامپ لگا دیا.
(۱۸۵۴ ، نادرات غالب ، ۲ : ۶۵)
اگر احیاناً مجھے اپنی بنی نوع کا یا خاص اپنی ذات کی عزت کا لحاظ کبھی نہیں رہا تو میں بہت ہی پشیمان ہوا.
(۱۹۳۰ . اودھ پنچ، لکھنؤ ، ۱۵، ۶ :۳)
گر احیاناً اس کے جلیں بال و پر
تو گل گیر لے شمع کا کاٹ سر
نگہ گرم سے دیکھے وہ اگر احیاناً
موم کی طرح سے ہو نرم دل روئیں تن
اگر احیاناً اس کے ترجمع میں . . . کچھ بھی جودت طبع کی جاتی ، حسن قصہ ہر گز باقی نہ رہتا.
(۱۹۴۷ ، فرحت مضامین ،۴ : ۲۳۷)