اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ سورتیں ان کے نزدیک داخلِ قرآن نہ تھیں تو اس سے قرآن مجید کے تواتر اور قطعیت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے.
(۱۹۰۴ ، مقالات شبلی ، ۱ : ۱۶).
اس میں کوئی چیز بھی قطعی نہیں ہو سکتی قطعیت کی اس میں کوئی گنجائش ہی نہیں.
(۹۸۶ ، فکشن ، فن اور فلسفہ ، ۶۲).
غمگین گر خوف ہو نہ قطعیت سے
ہر چند ہو متّقی مگر ہے گمراہ
تیرے سر میں قطعیت یعنی علیحدگی و بریدگی کے خوف کے علاوہ اور کوئی خوف ہے.
(۱۹۲۴ ، تذکرۃ الاولیا ، ۳۲۴).