اوّل دیکو کشتی سوں پشتی مجے
پچھاڑیا ہی بھی کون کشتی مجے
اپنے ہاتھوں کے بھی میں زور کا دیوانہ ہوں
رات دن کشتی ہی رہتی ہے گریباں کے ساتھ
فنِ اشعار میں ہوں پہلواں میر
مجھے ہے یاد اس کشتی کا ہر بند
بغیر ہتھیار دو انسانوں کی آپس میں جنگ کو کشتی کہتے ہیں
(۱۹۲۹ ، رسالہ بانک بنوٹ ، ۶)