اکثر تواریخ میں مفتریات اور موضوعات اور واہی تباہی بے سروپا مضامین پہلے لوگ لکھ گئے ہیں ۔
(۱۸۸۰ ، تاریخ ہندوستان ، ۱ : ۱۳) ۔
مایوس امیدوں یا ناکام محبت سے پیدا ہونے والی بے چینی و کرب ، قسمت اور مقدر کے خلاف کی جانے والی ناکامیاب جنگ یہ ہیں وہ موضوعات جو ہمیشہ مسرت پیدا کریں گے ۔
(۱۹۵۷ ، غالب ، صلاح الدین خدا بخش (تنقید غالب کے سو سال ، ۸۷)) ۔
ان موضوعات مسائل کا انھوں نے جس ہمدردانہ انداز سے تجزیہ کیا ہے اور جس خوبصورت لہجے میں اپنی بات کی ہے ۔۔۔۔ کم کم ہی ملتی ہیں ۔
(۱۹۹۹ ، آئیڈیل منافق ، ۱۷) ۔
یہ معلوم کر کے تعجب ہوا کہ ’’حمیرا‘‘ والی سب احادیث موضوعات میں ہیں ۔
(۱۹۳۸ ، اقبال ، اقبال نامہ ، ۱ : ۱۱۳) ۔