باندیا احرام کہ تیرا کروں گا جیوں سوں طواف
لعل رنگ انجھو ہمن کوں نہیں ہوتا ناصر
سجن کی خرد سالی پر خدا ناصر خدا حافظ
رقیباں کی ملامت سوں محمد مصطفاؐ حافظ
وہ ناصر کہ گر اس کی امداد ہو
فغاں سے مری چرخ برباد ہو
یا خدا جس نے ہماری جان بچائی اس کا تو حافظ و ناصر رہ ۔
(۱۹۰۱ ، الف لیلہٰ ، سرشار ، ۴۸) ۔
سلام اُن پر جو ہیں امید ہر کوتاہ و قاصر
یتیموں ، بدنصیبوں اور بیواؤں کے ناصر
(۱۹۹۳ ، زمزمہء سلام ، ۸۱) ۔