جو تجھ خط کی غلامی میں کیا ہے ترک فرماں کوں
تو اس کے باغ کے بھیتر رکھے ہیں ناؤں نافرماں
ہم نے اب گلزار میں بھی جا کے کئی کھائے ہیں غم
کیا کریں یاں سیر آب و لالہ نافرماں نہیں
مسی پر اوس کے رنگ ِپاں کی سرخی
عیاں ہے جیسے نافرماں کی سرخی
حکم گل سے سرکشی کرنے لگا سر و چمن
مثل لالہ داغ کھائے گا وہ نافرمانِ عشق
ایک سفید قبر پر جو نافرمان کی بیلوں سے چھپی ہوئی تھی اور صنوبر کے درخت چاروں طرف سے حلقہ کئے ہوئے تھے ۔
(۱۹۲۲ ، چمنستان مغرب ، ۶)