نہ ہووے کیوں نہ نافرمانی پوشاک
کہ نافرمان پری میں ہے وہ چالاک
چاند نکل آیا بعینہٰ جیسے نافرمانی جوڑا پہنے ہوئے کوئی معشوق نظر آ جاتا ہے ۔
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۵۵) ۔
رنگ نافرمانی کسوم اور نیل سے رنگا جاتا ہے ۔
(۱۸۴۵ ، مجمع الفنون (ترجمہ) ، ۲۰۳) ۔
صنمان سنبل مو نارنجی ، شفقی ۔۔۔۔۔ صندلی ، نافرمانی جوڑے بھاری بھاری پہنے ۔۔۔۔۔ آراستہ و پیراستہ ہر ایک ایک درخت کے نیچے ایک ہاتھ سے گل کو پکڑے کھڑی ہے ۔
(۱۸۹۰ ، بوستان خیال ، ۶ : ۸۶) ۔
نافرمانی کی سزا اس دنیا میں بھی ہے اور اُس دنیا میں بھی ۔
(۱۹۸۴ ، طوبیٰ ، ۶۸۶) ۔