زد کا کھیل نہ کھیل توشہ اپنی سیتی
اے منسوبہ کھیل تے ہار نہیں کیتے
اندر ہی موں خوف ہے اندر ہی ان بھے
اندر ہی موں ہار ہے اندر ہی موں جے
جیت آخرت ہے محض یو دنیا سو ہار ہے
گر مرد ہے تو جیت پہ دل رکھ نہ ہار پر
انس کرتا تو ہے وہ مجھ کو خرد باختہ جان
جیت میں اپنی نکالی ہے اسی ہار کے بیچ
اے دل قمار عشق میں شاید ہو تیری جیت
پہلے نکال منہ سے نہ زنہار ہار ہار
میں تو ایسی بازی کو ہرگز پسند نہیں کرتا جس کی جیت (خدانخواستہ) اپنے جلد مرجانے میں ہو اور ہار اپنے زیادہ جینے میں ۔
(۱۸۹۳ ، مکتوبات حالی ، ۲ : ۱۸) ۔
جس کے پاس کوئی رنگ کم ہو یا ختم ہو جائے تو پھر اس کو ہار ہو جاتی ہے ۔
(۱۹۱۳ ، انتخاب توحید ، ۹۳) ۔
اس پاپ کی نگری میں اُجڑی ہوئی پرتیں ہیں
یاں نیائے کی ہاریں ہیں انیائے کی جیتیں ہیں
چالان تو خیر ہو گیا مگر یہ جیت شیوراج سنگھ کو بڑی ہار محسوس ہوئی ۔
(۱۹۸۷ ، ابوالفضل صدیقی ، ترنگ ، ۲۹۹) ۔
اس میں اس کی جیت ہے اور میری ہار تمہاری ہار مجھے منظور نہیں ۔
(۲۰۰۳ ، ورثہ اور دوسری کہانیاں ، ۱۲۳) ۔