لیا ہار نو لاک کا ہات میں
سہیلی سکھی سب چلیں سات میں
تم جاتے جاتے کس لئے پھر آئے خیر ہے
چنپا کلی کا موتیوں کا ہار رہ گیا
غزوۂ بنی مصطلق (۵ھ) سے آپ ﷺ واپس آرہے تھے ، اُمُّ المومنین حضرت عائشہ ؓ ساتھ تھیں مدینے کے قریب جب قافلہ پہنچا تو اتفاقاً امُّ المومنین کا ہار کہیں گر گیا ۔
(۱۹۱۴ ، سیرۃ النبیؐ ، ۲ : ۱۰۷) ۔
ہار خواہ چاندی کا ہو یا سونے کا عورتوں کے لیے جائز اور مردوں کے لیے ناجائز ہے ۔
(۱۹۳۷ ، منشی محبوب عالم ، اسلامی سائیکلو پیڈیا ، ۲ : ۸۰۲) ۔
لان اور کوٹھی کے درمیان پورچ تھا جس میں موٹر آ کر رُک گئی ، برآمدے میں چار ملازم ہاتھوں میں ہار لیے باادب کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ انھوں نے سلام کرنے کے بعد میرے اور اختر کے گلے میں ہار ڈالے ۔
(۱۹۹۳ ، افکار ، کراچی ، دسمبر ، ۲۲) ۔
وزیر نے اپنی جگہ پر دو زانو ہو کر جھک کر ہاتھ بڑھایا اور نواب کے ہاتھ سے ہار لے لیا ۔
(۲۰۰۶ ، کئی چاند تھے سر آسماں ، ۲۶۳) ۔
چھوٹی پتیوں (بریکٹ) سے باہم مل کر ہار بنتا ہے ۔
(۱۹۱۰ ، مبادی سائنس (ترجمہ) ، ۱۷۱) ۔
یا خوب جا سلگا کے کوئی ہار ، فلیتا
دھونی بھی تری ناک میں دلوائے گی ، بابا!