نہیں ہے بے جا بیخودی کے دشت میں وحشت مری
جس نے میرا من ہرا وو منہرن آیا نہیں
لوبھ نے ان کی بدھی ہرلی ہے ۔
(۱۹۲۸ ، بھگوت گیتا (ترجمہ) ، ۲۰) ۔
شاعر بھی جو سبھی(کذا) بولی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے راموں جی کے سودے کرتے ہیں
اسباب خوشی اور خوبی کے گھر بیچ اُنھوں کے بھرتے ہیں
آنند عنایت کرتے ہیں سب من کی چنتا ہرتے ہیں
آپ کی بپتا ہریں بھگوان شو
بارش رحمت کریں بھگوان شو
تمھارے نہ آنے سے ہی میں سمجھ گئی تھی کہ ونود بابو تمہیں ہرلے گئے ، مگر خواب میں بھی خیال نہ تھا کہ تم منصوری پہنچ گئی ہو گی ۔
(۱۹۳۶ ، پریم چند ، پریم چالیسی ، ۲ : ۱۴) ۔
یہ صاحب سرمایہ ہیں ، وہ فاتح عالم
آزادی اقوام کی سیتا جو ہریں گے