ہم جان پر بھی کھیل کے جیتے نہ یار سے
ہم نے یہ داؤ بڑھ کے لگایا تھا ہر گیا
محبت میں اے دل نہ ڈر سر پر کھیل
وہ بازی نہیں یہ کہ ہر جائے گی
وہ جواری ہیں جو نقد دل و جاں
عشق بازی میں ہرے بیٹھے ہیں
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
ہارنا اور ہرنا میں فرق یہ ہے کہ ہارنا مقابلے کرنے والے کے لیے بولا جاتا ہے ۔
(۱۹۷۱ ، اُردو مصدر نامہ ، ۳۷۶) ۔
کہ کھیل کھیل میں جیتے کوئی ہرے کوئی
حیرت ہوئی مگر وہ ہوئی دو بہ دو تمام